صدر محفل وزی عزت سامعین ،السلام علیکم
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج کے اس پرآشوب دور میں بھی ہم سیرت کے جلسے منعقد کر رہے ہیں۔ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اس باوقار مجلس میں مجھے بھی حضور پاک کے حضور اپنی بات رکھنے کا موقع نصیب ہوا۔
سامعین محترم: رب کعبہ کی قسم اگر میں اپنی زبان کو ساتھ سمندر سے دھو لوں تب بھی اس قابل نہیں بنوں گا کہ نام محمد کی تقدیس کا تقاضا پورا کر سکوں۔ مگر چونکہ میرے مولا شفیع المذنبین ہے، راحت عاشقین ہیں اور مراد المشتاقین ہیں اس خوبصورت احساس کو ملحوظ رکھ کر اپنے ہونٹوں کو نام محمد کی چاشنی بخشنا باعث افتخار سمجھتا ہوں۔
سامعین محترم: میرے مولا خیر البشر ہیں۔ آپ کے باعث ہم اشرف المخلوقات ہیں۔ میرے مولا ایسے حسین تھے کہ کسی آنکھ نے ان جیسا حسین انسان نہیں دیکھا، اس قدر حسین تھے کہ اگر زلیخا اپنے وقت کی عورتوں کے سامنے یوسف۴ کے بجائے میرے آقا کو پیش کرتی تو باخدا وہ اپنی انگلیاں کاٹ لینے کے بجائے اپنے جگر کتراتے اور انہیں پتہ تک نہ چلتا۔
سامعین محترم: میرے مولا کی شان کریمی کا عالم دیکھیے کہ جبریل امین آپ سے درخواست کرتے کہ تقاضا فرمائیے میں خدا کے حکم سے طائف کی بستی کو صفہ ہستی سے مٹا دوں گا خون سے قفش مبارک میں تلوے جمے ہیں مگر میرے آقا کو یہ قطعا منظور نہیں کہ اُن کے ہوتے لوگ مرتد مر جائیں، یہ کہہ کر جبرائیل امین کی بات ٹالتے ہیں کہ شاید کل ان کے بچے ان کی دعوت پر لبیک کہیں گے۔
سامعین: پیارے نبی کے جسم اطہر پر ہر روز گندگی پھینکنے والی بڑھیا کے حق میں صحت یابی کی دعا کرنا بھی میرے آقا کا ہی شعار تھا۔ ابو لہب کی بددعا سن کر خدا بھی مشتعل ہوا اور تبت یدا ابی لہب کیا اٹھا مگر میرے آقا کے ہونٹوں کو بد خوائی کی نہیں سوجھی۔ اس جیسی ہزاروں مثالیں ہیں جو میرے آقا کریم نے قائم کیں، اور خالق کائنات نے اُن اوصاف کا اعتراف کرتے ہوئے کہہ دیا کہ۔۔ اِنَکَ لعلی خُلقٍ عظیم۔
سامعین کرام: وہ جن کے لیے فرمایا گیا کہ لو لا کا لما خلقت افلاق، کوئی اور نہیں بلکہ میرے آقا ہیں۔ آپ بے شمار القاب کے مالک تھے نبوت کو جھٹلانے والے بھی اپ کو امین اور صادق جیسے معتبر ناموں سے پکارتے تھے ۔ آپ خاتم النبیین، امام المرسلین، شفیع المذنبین، رحمت اللعالمین، فخر موجودات، باعث تخلیقِ کائنات، داور محشر، ساقی کوثر، سرور دو جہاں اور صاحب خلق عظیم جیسے القاب سے نوازے گئے۔
سامعین کرام: میرے آقا دُر یتیم تھے ۔اُمّی ہو کر بھی دنیا کے عظیم معلم تھے ۔شمع رسالت کے ہزاروں پروانے درسگاہ نبوی سے فیض یاب ہو کر اس قدر تاریخ ساز بن گئے کہ غیر مسلموں کو بھی آج تک ان کی عظمت کا اعتراف ہے۔
سامعین کرام: محسن انسانیت کی رسائی اس مقام سے اگے تھی جہاں جبریل امین کے پر جل جاتے ہیں۔ موسی کلیم اللہ نور کی ایک جھلک سے بے ہوش ہو جاتے ہیں مگر میرے آقا رب العالمین کا دیدار اتنے قریب سے کرتے ہیں کہ دوریاں گھٹ کر قابَ قوسین او ادنا ہو جاتی ہیں۔
بہرحال وقت کی تنگ دامنی کی وجہ سے میں اپنی بات اس لمحہ فکریہ کے ساتھ مختصر کرتا ہوں کہ ہمیں حضور کے اسوہ حسنہ پر ثابت قدم رہنا چاہیے اسی میں میلاد کی روح پنہاں ہے ۔شکریہ
دوسری تقریر
رئیسِ محفل: عزت مآب اساتذہ صاحبان اور ذی عزت سامعین، السلام علیکم۔
حضور اقدس کی تعریف و تحسین خود اللہ اور اس کے بے شمار ملائک بیان کرتے ہیں میری مجال کیا ہے کہ میں اوصاف نبی بیان کرنے میں انصاف کر سکوں بہرحال حتی المقدور کوشش کرتا ہوں اسی ایک امید کے ساتھ کہ کل میرے لیے یہی کوشش شفاعت کا وسیلہ بن سکے۔
سامعین محترم: میرے آقا کا تعلق ملت ابراہیم سے ہے ۔میرے آقا ابنُ ذبیحین ہیں۔ آپ سیدنا اسماعیل اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہیں جنہوں نےخوشی خوشی خدا کے حضور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا تھا۔
سامعین: میرے آقا رحمت والے ہیں اس قدر رحمت والے کہ پیدا ہوئے تو غلامی کی زنجیر توڑ ڈالی۔ آتش کدہ فارس کو راکھ کر دیا۔ قیصر اور کسری کے ایوان لڑکھڑائے۔ثوبیہ کو ازادی کی نوید سنائی۔ حلیمہ کو افلاس سے آزاد کیا ۔
سامعین: گناہوں کے ماحول میں پرورش پالینے کے باوجود حضور کا بچپن بے داغ رہا۔ حیا اس قدر کہ بچپن میں ابو طالب ایک مرتبہ آپ کا تہبند کھولتے ہیں تو اپ کو گشی آتی ہے۔ کھیل کود سے لاتعلق اور لغو باتوں سے دور رہنا اپ کا اعجاز تھا۔ سن بلوغت کو پہنچے تو دیانت کے ساتھ منافع بخش تجارت کر کے اتنا نام کمایا کہ ہر طرف آپ کو صادق اور امین جیسے ناموں سے پکارا جانے لگا۔ اوصاف حمیدہ کی بدولت حجر اسود کو نصب کرتے وقت آپ کو جج ٹھہرایا گیا
سامعین: حضور جب مبعوث ہوئے تو کفار مکہ آپ کو راہ حق سے بٹکا نےکی تدابیر سوچنے لگے۔ نبوت کا دعوی ترک کروانے کے لیے بادشاہت کی پیشکش کی۔ عرب کی خوبصورت ترین لڑکی نکاح میں دینے کی پیشکش کی مگر یہ سب اس وقت بے سود ثابت ہوا جب میرے آقا نے دو ٹوک ان سے فرمایا کہ بخدا اگر تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھو اور کہو کہ اس دعوے سے پھر جاؤ میں پھر بھی اس دین حق سے نہیں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
سامعین: میرے آقا محسن انسانیت ہے اسی کی وجہ سے میں اور آپ آج مسلمان ہیں ۔آپ کے طفیل ہی انسانی قدریں باقی ہیں۔ عورتوں کو عزت دینے کا رواج بھی میرے آقا کریم نے ہی دیا ہے
سامعین: مجھ ناچیز سے کیا حضور کی سیرت کا تذکرہ ہو سکے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جب حضور کی سیرت کے بارے میں پوچھا گیا ،تو انہوں نے جواب دیا کہ جا کرقران پاک سمجھ سمجھ کر پڑھو دراصل حضور پاک کی سیرت قران پاک کا آئینہ ہے۔ حضور پاک قرانی تعلیمات کا عملی نمونہ تھے
سامعین: وہ تمام اوصاف جو مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے وہ اور ان سے بالاتر اور بھی بے شمار اوصاف کے مالک تھے ۔جہالت کو کافور کرنے والے،مسِ خام کو کندن کرنے والے، خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانے والے، امت کے لیے رات رات جاگنے والے کوئی اور نہیں بلکہ میرے آقا کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
سامعین محترم: حضور کے اوصاف کو لوح وقلم تک محیط نہ کر سکے تو انسانی ذرائع کی کیا بساط۔ میں مولانا جامی کے اس شعر کے ساتھ اپنی بات مختصر کرتا ہوں کہ
لا یُمکن الثناء کما کان حقہ
بعد خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر
یا صاحب الجمال ویا سید البشر
خدا ہمیں اسوہ حسنہ پر چل رہی تھی توفیق دے امین
تقریر 3
وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندر ہیں
جو سرورِ عالم کا میلاد مناتے ہیں
رئیس محفل، معزز حاضرین: السلام علیکم۔ سیرت کے جلسے منعقد کرنا ایک بہت ہی بڑا کارِ خیر ہے سیرت کے ان ہی جلسوں کی بدولت ہمارے دلوں میں ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور ہمیں یقین محکم اور عمل پیہم کے عہد و پیمان یاد آتے ہیں۔آج جب ہم نبی کریم کا میلاد مناتے ہیں خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس دن کی عظمت سے بھرپور نواز ے۔امین۔
حاضرین کرام: عید میلاد النبی تمام روئے زمین ،ارواح عالم اور عرش و فرش کی سلطنتوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے یہی وہ دن ہے جس کی آمد آمد میں اسمانوں کے چراغ روشن ہوئے ۔اسی دن کی توقید میں لوح محفوظ جگ مگ جگ مگ ہوا اور سدرۃ المنتہی کا درخت ثمربار ہوا۔
حاضرین: آج اس متبرک ذات اقدس کا میلاد ہے جس کی بابت روئے زمین پر مروج تمام القاب کم پڑ جاتے ہیں ۔یہ اس خیر البشر کا میلاد ہے جس کے جیسا بی بی آمنہ کے سوا کسی ماں نے نہ جنا وہ جس کے حسن کے دربان حور و ملائک تھے اور جس کی سیرت خُلق عظیم کہلائی۔ وہ جو امام المرسلین ہوئے اور جس کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لیے بارگاہ الہی لب کشا ہوئی کہ
لولاک لما خلقتُ افلاک
یعنی اگر محبوب خدا کا پیدا کرنا مجھے مطلوب نہ ہوتا تو میں کائنات نہ بناتا ۔
حاضرین کرام: حضور کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم سُنن رسول کی صحیح معنوں میں اتباع کریں ایسا کئے بغیر ہم مسلمان نہیں بن سکتے ۔حضور کے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کوئی بھی انسان مومن نہیں بن سکتا جب تک نہ وہ حضور پاک کو اپنے ماں باپ سے، اپنے اولاد سے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب رکھے ۔
حاضرین کرام: رسول خدا کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرنے کے لیے ہمیں اس کے بتائے ہوئے راستے پر پاؤں ٹیک کر چلنا ہوگا ہم کو خود میں اسوہ حسنہ کی روشنیاں اتارنی ہونگی۔ عاجزی اور انکساری سے زمین پر چلنا ہوگا یہی راہ نجات اور اخروی فلاح کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے
حاضرین کرام: ہمیں چاہیے کہ اتباع رسول میں ابوبکر اور عمر کی رواداری ملحوظ رکھیں۔ انسانیت کے عروج کا سنہری دور ہمارے ان ہی اسلافوں کی مرحونِ منت ہے۔ اج جب ہم اس میراث کو نظر انداز کر چکے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جیسے کلمہ خانوں کو دور آسماں ثُر یاسے زمین پر دے مارتا ہے۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہم نے حضور کی چوکھٹ کو بلا دیا ہے۔ ہم نے اسلامی تعلیمات کو پسِ پُشت ڈالا ہے ۔ہمارے نام بھلے ہی غلام نبی، غلام رسول وغیرہ ہوں، مگر حقیقت یہ ہے ہم نفس کے غلام ہیں دولت کے بندے ہیں۔ ہم نے ضمیر کی آواز کب کی دفنائی ہے ۔
سامعین کرام: موجودہ پُر آشوب دور کے رہتے آئیے ہم سب عزم کر لیتے ہیں کہ ہم اپنے گھروں میں اسلام پھر سے سرتازہ کریں اور محبوب خدا کو اپنا محبوب بنائیں۔ آخرت کی فکر کو دنیا کی خوشنودی پر مقدم رکھیں۔خدا سے رسول خدا کا واسطہ دے کر ایمان کی پختگی مانگیں۔ اسی عمل میں ہماری کامیابی مضمر ہیں اور عید میلاد منانے کی روح بھی یہی ہے۔ خدا ہمیں اس جذبہ کو سلامت رکھے۔ امین ۔
تقریر 4
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وما ارسلنا الا رحمت للعالمین
بزرگو اور دوستو، السلام علیکم: درود اور سلام ہو اس پاک ہستی پر جس کا دن ہم آج یہاں منا رہے ہیں ۔درود و سلام ہو اس انسانِ کامل پر جس کی مرہون منت تمام لوح انسانی ہے۔ آج مجھ ناچیز کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ میں اپنے آقا کریم کے اس لقب اور اس وصف کا تذکرہ چھیڑوں جسے رحمتہ للعالمین کہتے ہیں۔
سامعین: پیدائش سے لے کر وصال تک میرے آقا کی زندگی کا ہر لمحہ انسان اور انسانی بقا کے لیے صرف ہوا ۔حضور کے کس قول و فعل کو غیر از رحمت کہیے۔ آپ تو سرتا پا رحمت تھے۔ پیدا ہوئے تو غلاموں کو رحمت کی نوید سنائی ۔ ابو لھب کی کنیزثوبیہ کے گلے سے غلامی کا طوق چھڑوایا ۔یہ رحمت کا پہلا کرشمہ تھا۔ قیصر اور کسری کے باطل ایوانوں کو تہ و بالا کر دیا، یہ رحمت کا دوسرا کرشمہ تھا ۔
سامعین محترم: اگر دنیا کے تمام پیڑ قلم بنائیں جائیں اور تمام سمندر سیاہی اور آسمانوں کی وسعتیں کاغذ، پھر کہا جائے کہ رحمت اللعالمین پیغمبر کی توصیف رقم کی جائے تو ہر کوئی با آواز جامی کہے گا کہ۔۔
لا یُمکن الثناء کما کان حقە
بعد از خدا بزرگ تُو ہی قصہ مختصر
سامعین: بعثت کے وقت حضور رحمت اللعالمین مکہ کی سرزمین پر قریش کے لوگوں کو جمع کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہاں تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ تم لوگ توحید پر ایمان لاؤ اور مجھے خدا کا رسول تسلیم کرو۔ عرش والے اس منظر کو بے تابی سے دیکھ رہے تھے کہ ابو لہب کی گندی زبان چل پڑی اور کہہ اٹھا۔ آپ کے ہاتھ ،نعوذ باللہ، ٹوٹ جائیں۔ یہ سن کر نبی پاک کے ماتھےپر شکن تک بھی نہیں آئی ،کجا کہ واپس بددعا دیتے۔ یہاں تک کہ خدا کی شان جلالی بول اٹھی
تبت یدا ابی الھبٍ و تب
سامعین کرام: رحمت والا نبی دیکھتا ہے کہ شکاری نے ہرن کو پکڑ رکھا ہے اور ہرن یہ تمنا کرتی ہے کہ وہ پہلے اپنی بچوں کو دودھ پلا کر آئے۔ اس کے بعد شکاری کے بلی چڑھے۔ حضور ہرن کی طرح سے ضامن بن جاتا ہے اور ہرن بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے بتاتی ہے کہ جلدی سے دودھ پیو شکاری نے میرے عوض رحمت اللعالمین پیغمبر کو گروی رکھا ہے
سامعین کرام: داعی اعظم جب طائف میں اسلام کی دعوت دینے جاتے ہیں تو طائف والے پتھروں کی برسات کرتے ہیں خون سے قفش مبارک میں تلوے جم جاتےہیں۔ خدا کی شان جلالی جوش مارتی ہے اور جبریل امین وارد ہوتے ہیں کہ یا رسول تقاضا کیجئے خدا کے حکم سے میں اس بستی کو دو پہاڑیوں کے درمیان دفن کر دوں۔ مگر حضور پاک کہہ اٹھتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اگر آج یہ میری بات نہیں سنتے، توقع ہے کل ان کی اولاد میری اس بات پر ضرور لبیک کہیں گے۔
سامعین کرام: اس بُڑھیا کی حکایت کو کون بھلا سکتا ہے جو حضور کا سواگت گھر میں جمع کیے ہوئے کوڑا کر کٹ پھینک کر کرتی تھی ۔حضور چپکے سے گردن مبارک پر پھینکی ہوئی غلاظت صاف کرتے اور اپنی راہ لیتے جب آخر پر کچھ دنوں کے لیے بڑھیا کا یہ شغل رک جاتا ہے ،تو حضور کو فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ بڑھیا ماں کا کیا ہوا ہے معلوم پڑتا ہے کہ وہ بیمار ہے تو حضور پاک ان کی مزاج پرسی کے لیے جاتے ہیں اللہ اللہ یہ رحمت کا ایک نمایاں پہلو ہے
سامعین محترم: کعبہ کی دیوار ٹوٹ جاتی ہے سرداران قریش متفقہ طور فیصلہ کرتے ہیں کہ بابُ صفا سے صبح داخل ہونے والے پہلے شخص کو جج بنا دیا جائے۔ اس روز باب صفا سے حضور داخل ہوتے ہیں اور جج قرار پاتے ہیں تو حضور پاک باریک بینی سے دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ تمام سردار اس کے فیصلے سے مطمئن ہو جائیں وہ اپنی کمبل بچھاتے ہیں اس پر حجر اسود رکھتے ہیں اور تمام سرداران کو ایک ایک کونا پکڑنے کو کہتے ہیں اور خود دیوار پر حجر اسود نصب کرتے ہیں۔ اس طرح رحمت اللعالمین پیغمبر نے تلواروں کو نیا موں میں واپس جانے پر مجبور کیا۔
سامعین کرام: اس جیسی سینکڑوں مثالیں ہیں جو یہاں پیش کی جا سکتی ہے مگر میں تو کیا کوئی بھی سیرت نگار سیرت کی ضخیم کتابیں لکھ لکھ کر بالاخر یہی کہ اٹھتا ہے کہ۔۔
ورک الٹتے گئے لیکن مد عا ابھی باقی ہے سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے
شکریہ
No comments:
Post a Comment